🕌 Irsyad Digital AI
AI-Powered Islamic Fiqh Q&A Platform
❓ Question
کیا سفر میں نمازیں جمع کرنا جائز ہے؟
🗓 11 June 2026
📖 Answer Pakej Jumhur Special

وعلیکم السلام۔

جی ہاں، سفر میں نمازوں کو جمع کرنا (جمعِ تقدیم یا جمعِ تاخیر) جمہور علماء کے نزدیک جائز اور درست ہے۔

سفر میں نمازوں کو جمع کرنے کی دلیل حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سفر میں ہوتے تو ظہر اور عصر کو، اور مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھتے تھے۔

اس حوالے سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:

  1. جواز: سفر میں نمازوں کو جمع کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسافر کے لیے ایک رخصت (آسانی) ہے۔
  2. قصر: اکثر علماء کے نزدیک سفر میں چار رکعت والی نمازوں کو قصر (دو رکعت) کرنا بھی مسنون ہے، اور جمع کے ساتھ قصر کرنا زیادہ بہتر ہے۔
  3. طریقہ: آپ ظہر کے وقت میں عصر کو ملا سکتے ہیں (جمعِ تقدیم) یا عصر کے وقت میں ظہر کو ادا کر سکتے ہیں (جمعِ تاخیر)۔ اسی طرح مغرب اور عشاء کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ جواب ایک عام رہنمائی کے لیے ہے۔ اگر آپ کے سفر کی نوعیت یا مدت کے بارے میں کوئی خاص مسئلہ ہو تو اپنے مقامی عالم دین یا مفتی سے رجوع کریں۔

⚠️ This answer is for initial reference only. For official Islamic rulings, please consult a qualified scholar or religious authority.
🔗 Share

🎁 Get 3 Free Questions

Ask any Islamic fiqh question and get answers based on
Hanafi, Maliki, Shafi'i & Hanbali madhabs

🚀 Register Now — It's Free
No credit card required · Free trial · Cancel anytime